3

4 كينہ تو ز دشمن

حضرت على )ع( كے مسلمانوں ميں ہى بہت سے دشمن موجود تھے اور يہ وہ لوگ تھے جن ميں سے كسى كا باپ ' كسى كا بھائي يا كوئي دوسرا قرابت دار جنگ كے دوران آپ كے ہاتھوں مارا گيا تھا اور يہ دشمنى وكينہ توزى ان كے دلوں ميں اسى وقت سے چلى آرہى تھي

ايسے حالات ميں جب كبھى حضرت على( ع( نے مسلح ہوكر قيام كيا اور اپنا حق طلب كرنے كى كوشش كى تو يہى دشمن فريب ونفاق كو ہوا دينے لگتے اور يہ كہتے پھرتے كہ على (ع)نے مسلمانوں كے درميان رخنہ پيدا كرديا ہے اور دين كے نام پر جنگ و پيكار بر اتر آئے اگر حضرت على (ع) نے ان سے جنگ كى ہوتى تو اس كے يہ نتائج نكل سكتے تھے

ممكن تھا كہ جنگ كے ابتدائي چند لمحات ميں ہى آپ (ع( كے بہت سے عزيز و ہمدرد تہ تيغ كئے جاتے اور پھر بھى حق حقدار كو نہ ملتا

جب آپ كے دوست خير خواہ تہ تيغ كرديئے جاتے تو مخالفين كا قتل ہونا بھى فطرى امر تھا اور اس كا مجموعى نتيجہ يہ ہوتا كہ مركز ميں مسلمانوں كى طاقت رو بزوال ہونے لگتي_

اور جب مركزى طاقت كمزور ہونے لگتى تو وہ قبائل جو مركز سے دور تھے اور جن كے دلوں ميں دين اسلام نے پورى طرح رسوخ نہيں كيا تھا ، مرتدين كى صفوں ميں جاملتے اور شايد ان كے طاقتور ہونے اور مركز ميں رہبر كى زبونى كے باعث اسلام كے چراغ كى روشنى ماند پڑنے لگتي